کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے

کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے

جو لمحہ اس ذات کے اندر رک جاتا ہے

سورج دن بھر زہر اگلتا رہتا ہے

چاند کا زعم بھی رات کے اندر رک جاتا ہے

پہلے سانس جما دیتا ہے ہونٹوں پر

پھر وہ اپنی گھات کے اندر رک جاتا ہے

نکل نہیں سکتا دھرتی کا بنجر پن

جو قطرہ برسات کے اندر رک جاتا ہے

حرف کا دیپ ہوا سے کیسے الجھے گا

یہ نقطہ ہر بات کے اندر رک جاتا ہے

ہجر کا موسم خاموشی اور رات کا ڈر

یادوں کی بارات کے اندر رک جاتا ہے

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا