پیرہن اور بھی تابناک ہوا

پیرہن اور بھی تابناک ہوا
جب تری رہ گزر کی خاک ہوا

جسم پر اوڑھ کے ردائے زخم
میں جیا تو کبھی ہلاک ہوا

مجھ کو کیسے وصولتا کوئی
میں غلط سے پتے پہ ڈاک ہوا

تب سے سیکھا ہے تیرنے کا ہنر
جب سے ہے بادبان چاک ہوا

کتنے چہرے ملول ہیں ساحل
شہر اک دشتِ خوفناک ہوا

ساحل سلہری

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان