پیٹیے مت لکیر, اکٹھے ہیں

پیٹیے مت لکیر, اکٹھے ہیں
بے حیا , بے ضمیر اکٹھے ہیں

کب مساوات اور مدینہ ہے
کب مرید اور پیر اکٹھے ہیں

شعلگی سے خبر ملی ہے مجھے
اب ہدف نیزہ تیر اکٹھے ہیں

دیکھ کشکول سے الجھتے ہوئے
اس گلی میں فقیر اکٹھے ہیں

صبح زنداں میں بین کرتی ہے
تیرگی شب اسیر اکٹھے ہیں

شاخ پھل گھونسلہ پرندے ہوا
پیڑ کا سینہ چیر ,اکٹھے ہیں

رنگِ اسلوب ہے جدا ارشاد
میر غالب دبیر اکٹھے ہیں

ارشاد نیازی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے