پیار

پیار

ابر بہار نے
پھول کا چہرہ
اپنے بنفشی ہاتھ میں لیکر
ایسے چوما
پھول کے سارے دکھ
خوشبو بن کر بہہ نکلے ہیں
زود پشیماں

گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہ
دور دیس سے
چمکیلے مشکی گھوڑے پر ہوا سے باتیں کرتا
جَگر جَگر کرتی تلوار سے جنگل کاٹتا
دروازے سے لپٹی بیلیں پرے ہٹاتا
جنگل کی بانہوں میں جکڑے محل کے ہاتھ چھڑاتا
جب اندر آیا تو دیکھا
شہزادی کے جسم کی ساری سوئیاں زنگ آلودہ تھیں
رستہ دیکھنے والی آنکھیں سارے شکوے بھول چکی تھیں

پروین شاکر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا