پردیس کا شہر

یہ سرمئی بادلوں کے سائے
یہ شام کی تازہ تازہ سی رت

یہ گاڑیوں کی کئی قطاریں
یہ باغ میں سیر کرتے جوڑے

یہ بچوں کے قہقہے سریلے
وہ دور سے کوکتی کویلیا

یہ عکس پانی میں بجلیوں کا
چہار جانب ہے شادمانی

مگر میں ہوں بے قرار مضطر
نہیں ہے اس شہر میں مرا گھر

 

ترنم ریاض

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے