پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے

پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے
زندگانی حیف ہے مر جایئے

کچھ نہیں تو شعر ہی کی فکر کر
آئے ہیں جو یاں تو کچھ کر جایئے

قصد ہے کعبے کا لیکن سوچ ہے
کیا ہے منھ جو اس کے در پر جایئے

خانماں آباد جو ہے سو خراب
کس کے اٹھ کر شہر میں گھر جایئے

بیم مردن اس قدر یہ کیا ہے میر
عشق کریے اور پھر ڈر جایئے

میر تقی میر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے