پیکرِ خاک کب مکمل ہے

پیکرِ خاک کب مکمل ہے
ویسے دیکھو تو سب مکمل ہے

جو سمجھ آسکے ادھورا ہے
جو بھی شے ہے عجب مکمل ہے

راکھ اپنی اُٹھا کے لے آیا
میں نے دیکھا کہ شب مکمل ہے

وہ مرے ساتھ چل نہیں سکتا
جس کی اپنی طلب مکمل ہے

میں نے سائے کو مار ڈالا ہے
میری تنہائی اب مکمل ہے

شجاع شاذ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی