نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا

نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا
شاعری تو شعار ہے اپنا

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات
اب یہی روزگار ہے اپنا

دے کے دل ہم جو ہو گئے مجبور
اس میں کیا اختیار ہے اپنا

کچھ نہیں ہم مثال عنقا لیک
شہر شہر اشتہار ہے اپنا

جس کو تم آسمان کہتے ہو
سو دلوں کا غبار ہے اپنا

صرفہ آزار میر میں نہ کرو
خستہ اپنا ہے زار ہے اپنا

میر تقی میر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل