نگاہیں خود پہ رکھتے ہو

نگاہیں خود پہ رکھتے ہو محبت ہم سے کرتے ہو
ہمی کو قتل کرکے کس طرح پھر ہم پہ مرتے ہو؟

تمہاری چشمِ الفت نے ہمیں شیدا بنا ڈالا
اسی اک چشمِ الفت کو ہمیشہ خود پہ دھرتے ہو

بہت افسوس ہے ہم کو، ہمیں کہتے نہیں اپنا
اگر شوقِ محبت ہے تو کیوں کہنے سے ڈرتے ہو؟

تمھیں تو ابنِ ساقیٓ سے محبت تھی بہت ، لیکن!
بھلا اب اس کو کیوں رسوا سرِ بازار کرتے ہو؟

حسن ابن ساقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی