یا خدا! تجھ سے دعا ہے

یا خدا! تجھ سے دعا ہے وہ مرے ساتھ رہے
یعنی اشعار کی آمد کا تسلسل نہ رکے

تیری قربت ہی مجھے رکھتی ہے اوروں سے پرے
اوروں سے کام بھی کیا؟ تو جو مرے پاس رہے

وہ میسر ہے تو لگتا ہے بہاریں ہیں مری
کاش! یہ موسمِ گلزار کبھی بھی نہ پھرے

آج رونا تھا بہت ان سے ملاقات کے بعد
مجھ کو حیرت ہے مری آنکھ سے آنسو نہ بہے

ایک ہی خوف ہے بس مجھ کو میاں! ایک ہی خوف
"تجھ سے میں تنگ ہوں” تو مجھ سے کبھی یہ نہ کہے

کون ہے اور بھلا جس سے کہوں اپنی حسؔن
اور کوئی ہے بھی نہیں جو کہ مری بات سنے

حسن ابن ساقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی