نظروں نے مرے دل کی ہر اک بات عیاں کی

نظروں نے مرے دل کی ہر اک بات عیاں کی
حاجت نہ رہی مجھ کو کسی اور زباں کی

پہروں وہ مجھے تکتا ہے یوں پاس بٹھا کر
جیسے کہ میں باسی ہوں کسی اور جہاں کی

اے کاش ترے دل میں ملے مجھ کو ٹھکانہ
خواہش ہی نہیں یار کسی اور مکاں کی

کیسا ہے ترا شہر ترے شہر کی گلیاں
مجھ کو بھی بتاؤ نا کوئی بات وہاں کی

سہتا نہیں کوئی بھی محبت میں خسارہ
پھر بات کرے کون یہاں سود و زیاں کی

منزہ سیّد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان