نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا

نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا

محبت کا یہ بھی ہے کوئی قرینا

وہ کیا قدر جانیں دلِ عاشقاں کی

نہ عالم، نہ فاضل، نہ دانا، نہ بینا

وہیں سے یہ آنسو رواں ہیں، جو دل میں

تمنا کا پوشیدہ ہے اک خزینا

یہ کیا قہر ہے ہم پہ یارب کہ بے مے

گزر جائے ساون کا یوں ہی مہینا

بہار آئی سب شادماں ہیں مگر ہم

یہ دن کیسے کاٹیں گے بے جام و مینا

حسرت موہانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے