نتھلی نہیں ہے گویا رخِ ماہ تاب پر

نتھلی نہیں ہے گویا رخِ ماہ تاب پر
تتلی سفید بیٹھی ہے جیسے گلاب پر

ان پڑھ، مگر حیا کا ہے پیکر وہ گاوں کا
حاسد ہیں لوگ مجھ سے مرے انتخاب پر

ہر لفظ خوشبووں میں نہایا ہؤا ہے آج
اسکی نظر پڑی ہے پرانی کتاب پر

جنگل سے کم ہوئے ہیں پرندے تو کیا ہوا؟
الزام کوئی رکھ نہ سکے گا عقاب پر

دشتِ جنوں کو کوئی مرا یہ پیام دے
ڈالے گا خاک عشق یہ، خانہ خراب پر

ناکام ہوکے پیار کسی سے نہ مانگنا
آتا ہے سب کو پیار مگر کامیاب پر

محفل نہ لوٹ لے تو مظفرؔ پہ حیف ہے
لکھ دی غزل جو اس نے تمہاری نقاب پر

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی