اسی طرح گر نمی کو

اسی طرح گر نمی کو ترسے گھڑے ہمارے
تو پانیوں پر مریں گے لڑ کر بڑے ہمارے

ہمارے کھیتوں میں اگ رہی ہیں غموں کی فصلیں
ہیں آنے والے تمام لمحے کڑے ہمارے

شجر پرندوں سے لڑ پڑے ہیں لگا کے تہمت
تمہارے کارن ہی بور پتے جھڑے ہمارے

اگر وہ چاہیں اٹھائیں ہم کو گھروں سے آکے
سو اب بھی ڈر سے نہ رونگٹے ہوں کھڑے ہمارے؟؟

ہم اپنی آنکھیں ادھار دے دیں جو دیکھ پائے
بدن کے ملبے،گلے ہمارے،سڑے ہمارے

کسی زمانے میں ہم سا فاتح نہیں تھا کوئی
تھے دشمنوں کی چھتوں پہ پرچم گڑے ہمارے

ہماری کھالوں سے اس نے جوتے بنائے اپنے
عمارتوں پر حسین چہرے جڑے ہمارے

عجیب جنگیں لڑی ہیں ہم نے ازل سے اب تک
انا پہ اپنی، بزرگ اپنے، اڑے ہمارے

اداس بیٹھا ہوا مظفر یہ سوچتا ہے
گلے سبھی غم نجانے کیوں کر پڑے ہمارے

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی