کب ہمارے خیال ملتے ہیں

کب ہمارے خیال ملتے ہیں
ہوکے یوں ہی نہال ملتے ہیں

یوں نہیں مل سکوں گا تم سے میں
دل سے دھوکہ نکال، ملتے ہیں

دل وہ پنچھی ہے جس کو راہوں میں
تیر، بندوق ، جال ملتے ہیں

لاپتہ ہو کے اس ریاست میں
پھر کہاں ماں کے لعل ملتے ہیں

بھیڑیے چار سو دکھائی دیئے
بھیڑ کی اوڑھے کھال ملتے ہیں

ہم بلوچوں کے ہاں وفا کے ساتھ
تیر، تلوار، ڈھال ملتے ہیں

بارشوں کے حسین موسم میں
کب حسیں لب، وہ گال ملتے ہیں

ہے غنیمت کہ آج بھی ہم کو
گر نوالے حلال ملتے ہیں

اے مظفرؔ ہو عشق یا غربت
دکھ بھرے ماہ و سال ملتے ہیں

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں