نہیں, آوارگی قبول نہیں

نہیں, آوارگی قبول نہیں
کیوں مری سادگی قبول نہیں

یار میں وہ چراغ ہوں جس کو
دستِ تیرہ شبی قبول نہیں

ہر ستم تیرا ہے قبول مجھے
دل کو تیری کمی قبول نہیں

میرے پہلو میں آگ بیٹھی رہی
مجھے یہ بے رخی قبول نہیں

تیرا لہجہ بدل رہا ہے حسیب
کیا تجھے عاشقی قبول نہیں

حسیب بشر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے