دردِ دل زبان چاہتا ہے

دردِ دل زبان چاہتا ہے
وسعتِ بیان چاہتا ہے
عمر کی گلی میں یہ مرا دل
پختہ اک مکان چاہتا ہے
کیوں مجھے وہ آزمائے ہر پل
کیوں وہ امتحان چاہتا ہے؟
کیوں اُداس پھرتی ہیں گھٹائیں
کیا یہ آسمان چاہتا ہے؟
لوٹ آئے گا وہ پھر سے شاید
عشق پھر گمان چاہتا ہے
بھولنا تجھے نہیں ہے ممکن
دل ترا ہی دھیان چاہتا ہے
دوریاں سہی نہ جا سکیں اب
دل تری امان چاہتا ہے
جاں بہ لب ہوں ایسے میں ترے بن
جیسے کوئی جان چاہتا ہے

ناہید ورک

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے