میرے دامن پہ عجب داغ لگا کر سائیاں

میرے دامن پہ عجب داغ لگا کر سائیاں
وہ مجھے چھوڑ گیا اپنا بنا کر سائیاں

میں عبادت کے عوض اس کو فقط مانگتا ہوں
یوں مزاروں پہ چراغوں کو جلا کر سائیاں

ہر ملاقات مجھے زخم نیا دیتی ہے
اور میں خوش ہوں انہی زخموں کو سجا کر سائیاں

ہاتھ سے ہاتھ کبھی جوڑ کے مانگی تھی دعا
زندگی دے مجھے پھر اس سے ملا کر سائیاں

میں گنہگار ترے در پہ کروں سجدے حسیب
میرے خوابوں کو نہ آنکھوں سے جدا کر سائیاں

حسیب بشر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا