نا مکیں یہاں کے ہم

نا مکیں یہاں کے ہم نا تو ہم وہاں کے ہیں
یہ ورق جو بکھرے ہیں اپنی داستاں کے ہیں

کب گلوں کو سینچا ہے، تھوڑی آبیاری کی؟؟
سچ کہا اے طائر! ہم کون گلستاں کے ہیں؟

کتنی جاں فشانی سے پنچھیوں نے اٹکایا
جا بجا پریشاں اب تنکے آشیاں کے ہیں

ہم نے تان رکھا ہے اک حصار اپنے گرد
اب کی بار حملے وہ بزمِ دوستاں کے ہیں

وہ جو دل کی مسند پر آج جلوہ افگن ہیں
کون سمت سے آئے، کون ہیں، کہاں کے ہیں؟؟

جب پڑے کوئی مشکل بیٹیاں سہارا دیں
یہ ہماری ہمدرد، اور بیٹے اپنی ماں کے ہیں

ہم نے چند سانسوں کی التجا جو کی حسرتؔ
تب سے سب کنارے ہی سرخ آسماں کے ہیں

رشِید حسرتؔ

۱۹ جون ۲۰۲۵

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا