پیغام ضروری کبھی الہام ضروری

پیغام ضروری کبھی الہام ضروری
عشاق کو ہوتے ہیں یہ انعام ضروری

اس وقت بھی ماں کرتی ہے اولاد کی خدمت
جس عمر میں ہو جاتا ہے آرام ضروری

ملتی ہے ہر اک شخص کو جب تیری توجہ
ہے ساتھ ترے میری بھی اک شام ضروری

اس درجہ حریفوں سے الجھنا نہیں اچھا
ہو غصۂ اظہار کو دشنام ضروری

ممکن نہیں ہو جائیں سبھی کام مکمل
آغاز کا ہوتا نہیں انجام ضروری

یہ دینِ محبت ہے یہاں کیسی شرائط
عاشق کو نہ زنار نہ احرام ضروری

زنداں کی اسیری کو ضروری نہیں مجرم
ان کو ہے فقط عام سا بدنام ضروری

حاکم نے رعایا سے کہا اب سے تمہاری
روٹی کے لیے بھی مرے احکام ضروری

کہتا ہے مجھے فارحہ یوں ٹوٹ کے چاہو
ہر سانس میں ہو جائے مرا نام ضروری

فارحہ نوید

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی