نہ ہارا ہے عشق

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے

ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں

نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

ارے او جفاؤں پہ چپ رہنے والو

خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

مرے راہبر مجھ کو گمرہ نہ کر دے

سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

خمارؔ بلا نوش کہ تو اور توبہ

تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے

 

خمار بارہ بنکوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے