نہ آئیں وہ تو کوئی موت کا پیغام آ جائے

نہ آئیں وہ تو کوئی موت کا پیغام آ جائے

وہی اپنا ہے آڑے وقت پر جو کام آ جائے

شبِ فرقت قیامت اے دلِ ناکام آ جائے

اگر جل کر بھڑکنے پر چراغِ شام آ جائے

کہیں پر بیٹھ جا کیا دیکھتا ہے بزمِ ساقی میں

خدا معلوم پہلے کس طرف سے جام آ جائے

فسانہ کہہ رہے ہیں آج وہ اپنی محبت کا

خدا ایسا کرے میرا کہیں پر نام آ جائے

خدا معلوم اس طائر کے دل پر کیا گزرتی ہے

جو پر تولے ہوئے ہو اور زیرِ دام آ جائے

قمر اک دن سفر میں خود ہلالِ عید بن جاؤں

اگر قبضے میں میرے گردشِ ایام آ جائے

قمر جلال آبادی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی