جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی

جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی

اُتاری جاتی ہے ان کی نظر گذر پھر بھی

کوئی ٹھکانہ ہے صیّاد بدگمانی کا

قفس میں قید ہوں کاٹے ہیں میرے پر پھر بھی

ملال کر دلِ مضطر نہ ان کے جانے کا

خدا نے چاہا تو آئیں گے وہ ادھر پھر بھی

وہ کہہ رہے ہیں کل آئیں گے ہم بتا تو دیا

لگا رکھی ہے یہ تم نے اگر مگر پھر بھی

ہزار عیش قفس میں سہی وہ بات کہاں

کہ اپنا گھر ہوا کرتا ہے اپنا گھر پھر بھی!

قمر یہ مانا کہ تم احتیاط برتو گے !

کسی کے رخ سے جو ٹکرا گئی نظر، پھر بھی؟

قمر جلال آبادی

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں