ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو

ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو
کس قدر مغرور ہے اللہ تو

مجھ سے کتنے جان سے جاتے رہے
کس کی میت کے گیا ہمراہ تو

بے خودی رہتی ہے اب اکثر مجھے
حال سے میرے نہیں آگاہ تو

اس کے دل میں کام کرنا کام ہے
یوں فلک پر کیوں نہ جا اے آہ تو

فرش ہیں آنکھیں ہی تیری راہ میں
آہ ٹک تو دیکھ کر چل راہ تو

جی تلک تو منھ نہ موڑیں تجھ سے ہم
کر جفا و جور خاطر خواہ تو

کاہش دل بھی دو چنداں کیوں نہ ہو
آنکھ میں آوے نہ دو دو ماہ تو

دل دہی کیا کی ہے یوں ہی چاہیے
اے زہے تو آفریں تو واہ تو

میر تو تو عاشقی میں کھپ گیا
مت کسی کو چند روز اب چاہ تو

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان