مجرم ہوں تیرا پر میں

مجرم ہوں تیرا پر میں بے وفا نہیں
تو چاہت ہے میری تجھے پتہ نہیں

مانا کہ جرم میں نے کیا تھا
مگر دی تو نے درست سزا نہیں

کتنے دیپ جلائے تیرے پیار میں
پر بنتا تو میرا ہمنوا نہیں

راہ محبت واقعی کٹھن ہے،
آنکھ جھبکتے کوئی دیتا بھلا نہیں

مجھے آج بھی اس کی تمنا ہے ساغر
پر افسوس وہ مجھے ملا نہیں

غلام عباس ساغر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی