اندھیری رات ظالم نظام

اندھیری رات ظالم نظام بدلے گا
ایک دن حاکمیت کا دام بدلے گا

بوکھ افلاس تنگی سے جھکا بدن
اے غریب وطن تیرا صبح شام بدلے گا

غریب کو سزا، امیر کو چھوٹ
قاضی کبھی تو تیرا کام بدلے گا

وعدوں پہ وعدے کرپشن کا میداں
نمائندہ عوام تیرا یہ رام رام بدلے گا

میرے وطن تجھے آنچ نہ آنے دیں گے
ساغر معاشرے کو تیرا کلام بدلے گا

 

غلام عباس ساغر 

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل