بجلی گرجی ،آندھی آئی

بجلی گرجی ،آندھی آئی، بادل چھائے
وہ نہ آئے ٹھنڈی ہو گئی چائے

امیدیں بکھری دل ٹوٹا آنسو پھوٹا
اکیلی جان اور یہ تنہائیوں کے سائے

جدائی کا خوف میں مدہوش رقیب پر جوش
اب کون یہ تعلق وفا نبھائے

پھر بھی انتظار ،دل بے قرار، انوکھا زوال
ا یہ دیپ بھی میرا ساتھ چھرائے

مقصد زندگی تھا بس انکی قربت
ساغر پر یہ قسمت ہائے ہائے

غلام عباس ساغر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی