مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا

سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا

پھر آئنے میں خون دکھائ دیا مجھے

آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا

آواز دے رہا تھا کوئ مجھ کو خواب میں

لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا

کتنے چراغ گھر میں جلاۓ گۓ، نہ پوچھ

گھر آپ جل گیا ہے ، جلایا کہاں گیا

یہ بھی خبر نہیں ہے کہ ہمراہ کون ہے

پوچھا کہاں گیا ہے ، بتایا کہاں گیا

وہ بھی بدل گیا ہے مجھے چھوڑنے کے بعد

مجھ سے بھی اپنے آپ میں آیا کہاں گیا

تجھ کو گنوا دیا ہے مگر اپنے آپ کو

برباد کر دیا ہے ، گنوایا کہاں گیا

فیصل عجمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے