مجھ کو مجھ سے بھی نہاں رکھا گیا ہے

مجھ کو مجھ سے بھی نہاں رکھا گیا ہے
پیکرِ خاکی عیاں رکھا گیا ہے

ہر فنائے ظاہری کے طاقچے میں
ارتقائے جسم و جاں رکھا گیا ہے

سر فصیلِ خود پررستی سے اُٹھا، دیکھ
آسماں پر آسماں رکھا گیا ہے

ہو خُمِ خاکی میں غوطہ زن کہ اس میں
جادہء دریا رواں رکھا گیا ہے

جس نشانِ پا پہ تھی امیدِ منزل
پاؤں اُس پر بھی کہاں رکھا گیا ہے

یہ مسافت اے گِلِ محتاجِ حسرت
یاد رکھ، پاسِ زباں رکھا گیا ہے

آہ، کیوں بالائے طاق، اے جلوہءِ یار
اشتیاقِ مفلساں رکھا گیا ہے

تُو عدم میں بھی تھا اُس کی دسترس میں
اب ترا نام و نشاں رکھا گیا ہے

فرید احمد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے