محبّت کی بجائے مُجھ سے

محبّت کی بجائے مُجھ سے بیشک بے رُخی کرلے
اجازت ہے جہاں چاہے دلی وابستگی کرلے

مری قسمت میں لکھّا ہے کسی آسیب کا سایا
نہیں ممکن کہ آدم زاد مجھ سے عاشقی کرلے

شبِ فرقت کی تاریکی سے وحشت ہو اگر اُس کو…
تو میرے قرب کی یادیں جلا کر روشنی کر لے

مَیں اپنی ذات کا پابند کرکے کیوں رکھّوں اُس کو
اجازت ہے اسے چاہے جہاں پھر دوستی کرلے

اگر اُس کے کسی معیار پر پوری نہیں اتری
تو مجھ کو چھوڑ کر وہ عادتاً آوارگی کر لے

گرفتارِ محبت کو کوئی جا کر یہ سمجھائے
وفا کرتے نہیں انساں وہ رب کی بندگی کر لے

کسی بیباک لمحے میں خطا ہو جائے گی ہم سے
محبت کی فراوانی میں یارا کچھ کمی کر لے

منزّہ سیّد

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

1 تبصرہ

طارق اقبال حاوی اپریل 29, 2020 - 9:58 صبح
بہت شاندار، ڈھیروں داد
Add Comment