محبت کا فسانہ دو دلوں کا راز ہوتا ہے

محبت کا فسانہ دو دلوں کا راز ہوتا ہے
مسرت دے دلوں کو جو یہ ایسا ساز ہوتا ہے

کبھی مسکان چہرے پر کبھی رمجِم نگاہوں میں
محبت کرنے والوں کا الگ انداز ہوتا ہے

یہ دل بے چین ہو کر دم نگاہیں جستجو میں ہوں
یہیں سے تو محبت کا حسیں آغاز ہوتا ہے

پروں کو اس کا رکھوالا ہی اکثر کاٹ دیتا ہے
ارادہ جب کبوتر کا بڑی پرواز ہوتا ہے

ہمیں حامیؔ وہی اپنی ہنسی سے مار دیتے ہیں
ہمیں جن بے وفاؤں کی ہنسی پر ناز ہوتا ہے

سردار حمادؔ منیر

Related posts

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

کیا ہم بے وقوف ہیں؟