یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء
آپ پر میری جاں یہ جہاں ہوں فدا
رفعتیں چومتیں ہیں قدم آپ کے
آپ کو آسماں دیکھتا رہ گیا
ساری اُمت درودِ مبارک پڑے
آپ کا پھر بھی ہوتا نہیں حق ادا
طور کے جس تجلّی نے ٹکڑے گیے
آپ نے دیکھ لی حوصلہ آپ کا
جب جہالت میں تھے ابنِ آدم مگن
آپ کو رب نے سب کا چنا رہنما
آپ اول سے آخر تلک ہیں رسُل
آپ کی ابتدا ہے نہ ہے انتہا
اس جہاں ہی نہیں روزِ محشر میں بھی
آپ میرا سہارا ہیں بعد از خدا
یہ عقیدت بھری ایک نعت آپ کی
میرے پلڑے میں اس کے سوا کچھ نہیں
ہے گزارش یہ حامیؔ کی تجھ سے صبا
تو محمد کے در پر یہ جا کر سنا
سردار حمادؔ منیر
1 تبصرہ