محبت اگر ان پہ مائل نہ ہوتی

محبت اگر ان پہ مائل نہ ہوتی
انا ان کے تیور میں داخل نہ ہوتی

گناہوں کی بدبو اگر پھیلتی تو
یہ دنیا تو رہنے کے قابل نہ ہوتی

اگر لے کے جاتے سبھی ساتھ اپنے
زمیں پھر کسی کو بھی حاصل نہ ہوتی

یہ اصلاحی خطبے اگر دل سے ہوتے
زباں کی بھی تاثیر زائل نہ ہوتی

یہ خواہش بڑی تھی ہوس کی یہ دنیا
مری آرزوؤں میں شامل نہ ہوتی

وہ مجھ سے جدا ہو کے جاتا نہ خالدؔ
یہ آنکھیں میری بھی تو بادل نہ ہوتی

اویس خالدؔ

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں