مٹ گیا جب مٹنے والا

مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا!
دل کی بربادی کے بعد انکا پیام آیا تو کیا!

مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال،
اس گھڑی گر ناماور لیکر پیام آیا تو کیا!

اے دلے-نادان مٹ جا تو بھی کوُ-اے-یار میں،
پھر میری ناکامییوں کے بعد کام آیا تو کیا!

کاش! اپنی زندگی میں ہم وو منجر دیکھتے،
یوں سرے-تربت کوئی محشر-کھرام آیا تو کیا!

آخری شب دید کے قابیل تھی بسمل کی تڑپ،
سبھ-دمھ کوئی اگر بالا-اے-باما آیا تو کیا!

(پیام=سنیہا، ناماور=ڈاکیا، کوُ=گلی، منجر=
نظارہ، سرے-تربت=میری قبر تے، محشر-کھرام=
چال نال پرلو لیاؤن والا، شب=رات، )

نوٹ=اس رچنا نوں رام پرساد بسمل دی اخیری رچنا
منیاں جاندا ہے ۔

 

رام پرساد بسمل

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے