مری زمیں ترے افلاک سے زیادہ ہے

مری زمیں ترے افلاک سے زیادہ ہے

مجھے یہ خاک ہر اک خاک سے زیادہ ہے

نگار خانۂ دنیا مجھے دریدہ لباس

تری عطا شدہ پوشاک سے زیادہ ہے

شکستہ جسم الگ چیز ہے مگر ترا ظلم

کہاں مرے دل بے باک سے زیادہ ہے

کہانی کار تجھے کیا خبر یہ شہر دکھی

ترے فسانۂ غمناک سے زیادہ ہے

میں بجھ رہا ہوں مگر میری روشنی شہزادؔ

چراغ خیمۂ ادراک سے زیادہ ہے

قمر رضا شہزاد

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا