مری محبت بھی نیلگوں ہے

مری محبت بھی نیلگوں ہے

میں اس کو دوں گی گلاب نیلا

چمکتے عارض گھٹا سے گیسو

ہٹا دیا ہے نقاب نیلا

فلک سے آگے پلک سے آگے

نظر میں رکھا شہاب نیلا

ہے نغمہ آہنگ زندگی بھی

ہے ساز موج رباب نیلا

ہرے سمندر کے پاس جاؤں

تو وہ بھی نکلے سراب نیلا

جو لال لفظوں سے خط لکھا تھا

مجھے ملا ہے جواب نیلا

ہیں زخم سارے ہی نیلے نیلے

ہے یہ محبت عذاب نیلا

رفاقتوں کے سفر سے بوجھل

میں لکھ رہی ہوں نصاب نیلا

نیل احمد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی