میں اپنے آپ کو روکوں کہاں تک

میں اپنے آپ کو روکوں کہاں تک

فغاں جاتی ہے میری لا مکاں تک

ترے قدموں کی آہٹ گونجتی ہے

وہیں تک میں گئی ہوں تو جہاں تک

نظارہ بھی حسیں تھا قربتوں کا

دھنک پھیلی زمیں سے آسماں تک

جہاں پہ تیرگی بھی روشنی ہو

کبھی دیکھا ہے تم نے کیا وہاں تک

نیل احمد

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا