مرے چراغ ہمیشہ یہ جستجو کرنا

مرے چراغ ہمیشہ یہ جستجو کرنا
نظر ملا کے ہواؤں سے گفتگو کرنا

کہیں کسی کو خبر ہو نہ جائے دل میرے
دیا بجھا کے محبت کی آرزو کرنا

اسیرِ کرب و بلا نے یہ کر دکھایا ہے
بدن کو خاک بنانا لہولہو کرنا

یہ دشمنی کے اصولوں میں اک اصول ہے دوست
مخالفت بھی جو کرنا تو روبرو کرنا

میں اِس سے بڑھ کے محبت کی کیا کروں تشریح
کہ تجھ کو یاد بھی کرنا تو باوضو کرنا

طبیب ہوں سومجھے یہ ہنر بھی آتا ہے
رفو گروں کے کھلے زخم کو رفو کرنا

وہ دن شروعِ محبت کے یاد ہیں فیصل
خود اپنے عشق کا چرچا ہی چار سو کرنا

فیصل شہزاد

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی