میں اس زمیں سے نہیں اور آسماں سے نہیں

میں اس زمیں سے نہیں اور آسماں سے نہیں
کوئی بتائے کہاں سے ہوں گر یہاں سے نہیں

یہ خوف ہے کہ کہیں تو نہ مجھ سے چھن جائے
میں ڈر رہا ہوں محبت سے امتحاں سے نہیں

جواب دوں گا قبیلے کا مان رکھتے ہوئے
تمہارا واسطہ تم جیسے بد زباں سے نہیں

جنہیں خبر تھی وہ ہر بار یہ بتاتے رہے
کہ سب خرابی یہاں سے ہوئی وہاں سے نہیں

ہر ایک چیز ہی زر سے خریدنے والے
صغیر دل سے ملے گا کسی دکاں سے نہیں

صغیر احمد صغیر

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے