کبھی سوچا نہ ہی سمجھا نہ سمجھداری کی

کبھی سوچا نہ ہی سمجھا نہ سمجھداری کی
میں نے ہر بار محبت کی طرفداری کی

تب کہیں جا کے محبت کی سمجھ آئی ہے
جب پرندوں نے درختوں کی عزاداری کی

جانے کس پیڑ پہ آ کر وہ کبھی نام لکھے
بس یہی سوچ کے ہر سال شجرکاری کی

ہم نے یاروں سے تعلق کو عبادت سمجھا
کبھی عیاری نہ ہی اس میں ریاکاری کی

ایک صحرائی قبیلے سے تعلق ہے صغیر
مجھ کو آتی تھی وفا میں نے وفاداری کی

صغیر احمد صغیر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی