محرم میرے بعد تمھارے

محرم میرے بعد تمھارے
مت پوچھو دن کیسے گزارے
بھاری آنکھیں اٹا ہوا دل
کسے بتاؤں راز میں سارے
بے رنگ صبحیں بوجھل شامیں
کوئی بھلا کیوں خود کو سنوارے
روز ہی تیرے لمس کو ڈھونڈیں
شام ڈھلے ہم جھیل کنارے
ہم ہی جھلے سوچیں تجھ کو
اور تم سوچو اپنے بارے
دید کو تیری ترس گئے ہیں
راہیں تکتے نین بیچارے

طارق اقبال حاوی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا