میٹھی سی چاندنی ہے

میٹھی سی چاندنی ہے پہلو میں چاند اترا
تاروں کی دلکشی ہے پہلو میں چاند اترا

جگنو ا۔دھر ادھر ہیں کیا خوب ہے نظارہ
یہ رت بھی شبنمی ہے پہلو میں چاند اترا

جذبات میں کسی نے ایسی مچائی ہلچل
اندر بھی روشنی ہے پہلو میں چاند اترا

قلب و نظر میں جیسے اک نور بھر گیا ہو
سانسوں میں تازگی ہے پہلو میں چاند اترا

دل میں چھپے ہوئے ہیں ارمان بے تحاشا
ہونٹوں پہ خامشی ہے پہلو میں چاند اترا

لہجے کا ایک جادو اترا ہوا غزل میں
لفظوں کی ساحری ہے پہلو میں چاند اترا

کویتا غزل مہرا

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی