غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے

غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے
اکیلے میں مجھ کو رلایا بہت ہے

مرا حوصلہ ہے جئیے جا رہی ہوں
جدائی نے تیری جلایا بہت ہے

وفا کی ڈگر پر چلی عمر بھر میں
ملا کچھ نہ مجھ کو گنوایا بہت ہے

نہ جانے یہ کیا ہے محبت یا نفرت
گیا جب سے تو یاد آیا بہت ہے

مجھے راس آئی نہ چاہت کبھی بھی
محبت کو میں نے نبھایا بہت ہے

وہ خوابوں میں میرے ہی چھایا ابھی تک
جسے یارو میں نے بھلایا بہت ہے

غزل اس لیے سوئی ہوں میں سکوں سے
مجھے رتجگوں نے جگایا بہت ہے

کویتا غزل مہرا

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا