موت کچھ آسان ہوتی جا رہی

موت کچھ آسان ہوتی جا رہی
میری جاں قربان ہوتی جا رہی

بے خبر کو یہ خبر تو دیجیے
درد کی پہچان ہوتی جا رہی

بیچ رہے سب خدا کے نام کو
بندگی دکان ہوتی جا رہی

اس نے مجھ کو درد سے ملوا دیا
اور اب انجان ہوتی جا رہی

جیسے جیسے چھو رہی اسکو نظر
صاحب ایمان ہوتی جا رہی

ان لبوں سے میرے غم کی داستاں
اب تو یہ مسکان ہوتی جا رہی

عمران ڈین

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی