بڑھتی ہی جا رہی ہیں اب الجھنیں بہت

بڑھتی ہی جا رہی ہیں اب الجھنیں بہت
قربان ہو چلی ہیں اب خواہشیں بہت

کچھ آرزوئیں میری بھی کسب کمال تھیں
کچھ ان کی میرے برخلاف سازشیں بہت

میں نے تو جینا سیکھ لیا کھا کے ٹھوکریں
جاری ہیں انکی اب تلک بغاوتیں بہت

جینے کے لیئے لازماً ہیں پیار و محبت
لیکن دیار غیر نے کئیں نفرتیں بہت

دل میرے اختیار میں بالکل نہیں رھا
کچھ دوستوں نے توڑ دیں ہیں حسرتیں بہت

عمران ڈین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان