موسمِ ہجر کے آزار بڑھائے گریہ

موسمِ ہجر کے آزار بڑھائے گریہ
آنکھ کو اشک نہیں خون بنائے گریہ

دم بدم نیر بہاتے ہوئے رقصال بنیں
ہجر والوں کو اگر وجد میں لائے گریہ

اشک آئیں مری آنکھوں کے چمن زاروں میں
اک نظر مجھ پہ کرم کی ہو خدائے گریہ

چھوڑ جاتے ہیں جہاں یار اکیلا کر کے
ایسی تنہائی میں بس ساتھ نبھائے گریہ

جانے کس موڑ پہ لایا ہے یہ جیون مجھ کو
چار اطراف سے آتی ہے صدائے گریہ

حالتِ حال کو اظہار کو صورت دینے
میری آنکھوں میں ہمیشہ اُتر آئے گریہ

ہر گھڑی دل زدگاں خود کو رلاتے ہیں سعید
جیسے آنکھوں کی سدا شان بڑھائے گریہ

عالمِ غیب سے ہوتی ہے ہمیشہ ہی سعید
دشتِ ہجراں کے مکینوں کو دعائے گریہ

مبشر سعید

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے