نہر کنارا بھاتا ہے

نہر کنارا بھاتا ہے
شہر کے باقی رستوں سے

عشق ہُوا ہے پیڑوں کو
بنچ پہ بیٹھے لوگوں سے

جب بھی اُس سے ملتا ہوں
بھر جاتا ہوں شعروں سے

اب دریا پہ چلتے ہیں
ہاتھ ملانے لہروں سے

جسم کی رنگت بڑھتی ہے
تیری روح کے کپڑوں سے

تیرے نام کا ورد کیا
وحشت نکلی کمروں سے

مجھ کو بھی ہے پیار سعید
اجڑے بکھرے لوگوں سے

مبشر سعید

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے