متاعِ جسم و جاں کس کے لیے ہے

متاعِ جسم و جاں کس کے لیے ہے
یہ مٹّی، یہ دھُواں کس کے لیے ہے

وہ میری زندگی کس کے لیے تھی
یہ میری داستاں کس کے لیے ہے

ہمِیں اِس کام پر مامور کیوں ہیں
یہ سعیِ رائیگاں کس کے لیے ہے

اگر لا حاصلی ہے اِس کا حاصل
تو یہ کارِ جہاں کس کے لیے ہے

نہیں کوئی اگر دامن کشِ دل
تو یہ دریا رواں کس کے لیے ہے

ہَوا کیا ڈھونڈتی پھرتی ہے غائر
یہ آوارہ یہاں کس کے لیے ہے
(نذرِ رسا چغتائی)

کاشف حسین غائر

Related posts

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا