خواب بُنتا رہوں میں بستر پر

خواب بُنتا رہوں میں بستر پر
اور تکیہ کروں مقدّر پر

محوِ پرواز ہے یہ دل اور میں
جاں چھڑکتا ہوں اِس کبوتر پر

عمر بھر دیکھتے رہے سائے
دھوپ پڑتی رہی مرے سر پر

خود سے مشکل ہُوا سخن کرنا
وقت وہ آ پڑا سخن وَر پر

نیند اُڑنے لگی ہے آنکھوں سے
دھُول جمنے لگی ہے بستر پر

خاک ہونے سے پیش تر غائر
نقش ہو جاؤں کیوں نہ پتھر پر

کاشف حسین غائر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی