تصویرِ شجاعت ہمہ عالم کے لیے تھے

تصویرِ شجاعت ہمہ عالم کے لیے تھے
وہ ہاتھ بنائے گئے پرچم کے لیے تھے

تھی فکر شب و روز اک آزاد وطن کی
ہر غم کو چھپائے ہوئے اِس غم کے لیے تھے

اُس بندۂ بے دام کو کس شے کی کمی تھی
اعزاز سبھی قائدِ اعظم کے لیے تھے

اقبال ترے خواب کو تعبیر عطا کی
وہ خود کو سنبھالے اِسی موسم کے لیے تھے
(نذرِ قائد)

کاشف حسین غائر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی